ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / اترکنڑا ضلع کے مندروں کی کیا حالت ہے ؟: پرجاوانی کی خصوصی رپورٹ

اترکنڑا ضلع کے مندروں کی کیا حالت ہے ؟: پرجاوانی کی خصوصی رپورٹ

Mon, 22 Jan 2024 20:09:39    S.O. News Service

کاروار :22؍ جنوری  (ایس اؤ نیوز ) ایک ایسے وقت جب ایودھیا میں رام مندر کا افتتاح  کیا گیا ہے اسی دن کرناٹک کے مشہور کنڑا روزنامہ ’پرجاوانی ‘ نے  اترکنڑا ضلع کے مندروں پر مشتمل ایک خصوصی رپورٹ مع تصاویرشائع کی ہے ۔ جس میں  ضلع کے مندروں کی حالت زار پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایودھیا میں رام مندر کے افتتاح  کو لے کر ملک بھر میں  دھوم مچی  ہے۔  مگرضلع کے مندروں پر ایک نظر ڈالتے ہیں تو وہاں بنیادی سہولیات سمیت کئی ایک کمیاں نظر آتی ہیں۔ سیاحت کے لئے مشہور اترکنڑا ضلع ، مذہبی مقامات کے ذریعے سالانہ لاکھوں بھگتوں کو اپنی طرف راغب کرتاہے۔ ضلع میں 9اے گریڈ، 8بی گریڈ اور 645سی گریڈ سمیت مجرائی محکمہ کی تحویل میں 662منادر ہیں۔ اس کے علاوہ نجی کمیٹیوں کے ذریعے بھی سیکڑوں منادر ہیں۔

کاروار کے شیج واڑہ میں واقع شجیشور مندر کا تعلق رامائن کے زمانے سے بتایاجاتاہے۔ ایسی تاریخی اور پرانی مندر کی عمارت خستہ حالت میں ہے۔ شہر کے باڈد مہادیو ونایک مندر میں بھی سہولیات اور انتظامات میں کمی ہونے کی بھگتو ں کی طرف سے شکایت ہوتی رہتی ہے۔ یہ صرف ایک مندر کی کہانی نہیں ہے ضلع میں ایسی کئی مندریں ہیں جہاں بھگتوں کے لئے رہائش، طعام کی سہولت دینے کی قوت رہنے کےباوجود متعلقہ سہولیات فراہم نہیں کئےجانے کا الزام عائد کیاجاتارہاہے۔

ریاست بھر میں مشہور سرسی کی ماریکامبا مندر اور بنواسی کی مدھوکیشور مندر میں بھگتوں کے لئے رہائش سمیت بنیادی سہولیات کی کمی کئی مسائل کو جنم دیتی رہی ہے۔ ماری کامبامندر انتظامیہ کی تحویل والے یاتری نواس استعمال نہ ہونے سے ویران پڑے ہوئےہیں۔ جب کہ  روازنہ سیکروں بھگت ان مندروں کا درشن کرتے ہیں۔ کم سے کم رہائش، نہانے اور ضروریات سے فارغ ہونے کا انتظام نہیں ہونے کافی مشکلات کا سامنا ہے۔ پرکاش ہیگڈے نامی بھگت کا کہنا ہےکہ ماری کامبا مندر کے درشن کے لئے ملک کے مختلف مقامات سے روزانہ سیکڑوں بھگت آتے رہتےہیں ، یہ سب مندر کے صحن میں اپنی رات گذارتے ہیں ۔ ان کے لئے مناسب انتظام نہیں ہے۔ مندر انتظامیہ کے صدر آر جی نائک کاکہنا ہے کہ ماری کامبا مندر کی زمین پر محکمہ سیاحت نے یاتری نواس تعمیر کی ہے۔ اگر یہ استعمال کےلئے مل جائے تو کافی سہولت ہوگی ۔ لیکن محکمہ کا کہنا ہے کہ  یاتری نواس منتقلی کےلئے زمین کے کاغذات بطور عطیہ دینے ہونگے۔ بنواسی کے راج شیکھر نائک کا کہنا ہے کہ بنواسی میں لاکھوں روپیہ خرچ کرکے یاتری نواس تعمیر کیاگیا ہے لیکن ابھی تک عوامی استعمال کے لئے نہیں دیاگیا ہے۔ دور دراز مقامات سے آنے والے بھگتوں کو نہانے اور ضروریات سےفارغ ہونے کےلئے وردا ندی کی طرف جانے پر مجبور ہیں۔

منڈگوڈ تعلقہ میں کئی ایک قدیم منادر ہیں ، ان میں سے چند مندروں میں پوجا پاٹ بھی ہوتاہے۔ بیڈسگاؤں دیہات کے رام لنگیشور کی مندر ایک تاریخی حیثیت رکھتی ہے۔ دیہی عوام ہی یہاں ترقیاتی کاموں کو انجام دیتے ہیں۔ چوڈلی دیہات کےقریب ایک وسیع پیپل درخت کے نیچے مائلار لنگیشور کی مندر سمیت کئی ایک تاریخی منادر ہیں ۔ لیکن اکثر مندروں میں بھگتوں کے لئے کوئی سہولیات نہیں ہے۔حکومت کو اس طرف بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

یلاپور تعلقہ کے چندگولی کی سدی ونایک مندر ، گنٹے گنپتی مندر کے نام سے معروف ہے۔ مختلف مقامات سے یہاں سیکڑوں بھگت آتے ہیں۔ لیکن یہاں سہولیات کی کمی سے بھگتوں کو پریشانی ہوتی رہتی ہے۔ مندر کے لئے بس کا نظم نہیں ہے، بھگت پرائیویٹ سواریوں کے ذریعے جانے پر مجبور ہیں۔باہر سے آنے والے بھگتوں کے لئےیہاں کوئی رہائشی سہولت نہیں ہے۔

مذہبی طورپر کافی مشہور گوکرن کی مہابلیشور مندر میں پرانی پوجا رسم کو ختم کیاگیا ہے۔بیلگام کے اروند کلکرنی کا کہنا ہے کہ  یہاں  صرف سیاست دانوں اور اہم لوگوں کو ہی ابھیشیک نامی پوجاکرنے دیا جاتاہے عام بھگتوں نہیں ہے۔ اتنی مشہور مندر کا باب الداخلہ خستہ حالت میں ہے۔ جب کہ چھوٹی چھوٹی مندروں کاسامنا والا دروازہ بہت خوبصورت دیکھ سکتےہیں۔

مجرائی محکمہ کے ڈپوٹی کمشنر پرکاش راؤ نے وضاحت کرتےہوئے کہاکہ مندروں کی ترقی کے لئے انتظامیہ کمیٹی کی اپیل پر ضرورت کے مطابق امداد دی جاتی ہے۔ سال گذشتہ کروڑوں روپیہ کی امداد ضلع کےمختلف مندروں کو دی گئی ہے۔

گوکرن_مہابلیشور_مندر.jpg


Share: